10 اکتوبر، 2026، 10:17 AM

امریکہ سے متاثر ہونا، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کی طاقت کھونے کا باعث ہے، پزشکیان

امریکہ سے متاثر ہونا، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کی طاقت کھونے کا باعث ہے، پزشکیان

ایرانی صدر نے ترکمانستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ سے اثر پذیری اور فیصلہ سازی میں خودمختاری نہ ہونے کے نتیجے میں شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس اپنی طاقت اور یکجہتی کھو دیں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ترکمانستان میں آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ کے سربراہان کے اجلاس اور بحیرۂ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں کثیرالجہتی روابط اور تعاون میں توسیع کے ثمرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جتنا زیادہ ان روابط اور ملاقاتوں میں اضافہ اور استحکام آئے گا، اتنی ہی کثیرالجہتی پالیسیاں اور حکمتِ عملیاں نافذ کی جا سکیں گی۔

ایرانی صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کو اچھا اور مؤثر قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عملی میدان میں بھی منصوبوں کو نافذ کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے مواقع پر مذاکرات کے دوران مختلف امور پر گفتگو ہوتی ہے، لیکن عمل درآمد کے مرحلے میں ان وعدوں کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اصولی طور پر ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ فیصلوں اور مذاکرات کے نتیجہ خیز نتائج سامنے آئیں۔ فطری طور پر جب شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان ایک ساتھ بیٹھ کر ایسا فیصلہ کریں جو ترقی اور خوشحالی کے عمل میں مؤثر ہو اور ممالک و ذیلی اداروں کے درمیان تعاون اور روابط جاری ہوں، تو ہم اپنے طے شدہ اہداف اور تصورات تک پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے تمام انسانی گروہوں اور معاشروں کے درمیان مشترکہ زبان اور فہم پیدا کرنے اور ان طرزِ عمل کے اصولوں پر عمل درآمد کو کرۂ ارض پر تبدیلی اور ترقی کے لیے بنیادی پیشگی شرط قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی صورت میں محبت، دوستی، باہمی ہمدردی، مہربانی، ترقی اور ایک خوب صورت مستقبل کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے ایک بھاری ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، کیونکہ آپ فیصلوں پر عمل درآمد کی پیروی کے لیے رابطہ کار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اہداف اور عملی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوں گے۔

ایرانی صدر نے امریکہ کی ان مداخلتوں کی طرف اشارہ کیا جو اس ملک کی داخلی پالیسیوں کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور کہا کہ بعض اوقات ان حکمتِ عملیوں کے اثرات شنگھائی تعاون تنظیم کے مؤقف پر بھی پڑتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم یا برکس جیسے اجلاسوں کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ باہمی اتفاق اور مفاہمت رکھنے والے ممالک مالی، اقتصادی، تجارتی، سلامتی اور سیاسی شعبوں میں ایک مشترکہ عملی لائحۂ عمل تک پہنچ سکیں۔ اگر امریکہ جیسے کسی ملک کی داخلی پالیسیاں ان اجلاسوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے لگیں تو یہ تنظیمیں اپنی طاقت اور یکجہتی کھو دیں گی۔

پزشکیان نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دنیا کو کثیرالجہتی کی سمت لے جانا چاہیے؛ واضح کیا کہ اس وقت اختلاف یک طرفہ طرزِ عمل اور کثیرالجہتی کے درمیان ہے۔ یہ ان مسائل میں سے ایک ہے جن کا سامنا اسلامی جمہوریہ ایران کو تمام اجلاسوں میں کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ اب ان میں سے بعض مسائل بتدریج حل ہو رہے ہیں، لیکن اب بھی کچھ ممالک یک طرفہ طرزِ عمل اختیار کرنے اور امریکہ کی طاقت پر مبنی اور استعماری پالیسیوں کی پیروی کرنے کی طرف مائل ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ ہم اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور وسیع کیوں نہیں کر سکتے اور ہمارا ہمسایہ دنیا کے دوسرے سرے پر واقع کسی ملک کی پالیسیوں کی پیروی کیوں کرتا ہے؟ یہی وہ مسئلہ ہے جو موجود ہے۔ فطری طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے ایران سے متعلق بعض معاہدوں میں اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ ان فیصلوں کے بارے میں امریکہ کی کیا رائے ہے۔

ایرانی صدر نے اختلافات اور جھگڑوں سے گریز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مذاکرات کو مسائل کے حل اور مشترکہ نقطۂ نظر تک پہنچنے کا بنیادی راستہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وحشیانہ طرزِ عمل سے تہذیب اور انسانیت کے احترام کی طرف سفر میں وقت لگتا ہے۔ جن مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، انہیں دھونس اور زور زبردستی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ہم انسانوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے تاکہ پوری انسانیت خوشحالی، ترقی اور صحت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ ہمیں دوسرے ممالک کے وسائل اور امکانات پر لالچ کی نظر نہیں رکھنی چاہیے اور نہ ہی انہیں لوٹنے اور ان پر تجاوز کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ وہ دن آئے گا جب ہم اس کرۂ ارض پر ایک دوسرے کے ساتھ امن و سکون سے زندگی گزاریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ دھونس اور طاقت کے ذریعے اپنی بات منوانے کی کوشش کر رہا ہے اور ممالک کو باہمی تعاون کرنا چاہیے تاکہ اسے ایسا کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اسلامی جمہوریہ ایران بھی پوری قوت کے ساتھ اپنے اصولوں پر قائم ہے۔ ہم آپ کی کوششوں پر بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ امن و سکون کے قیام کی راہ پر گامزن ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے بھی پزشکیان کی گفتگو کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے میں آپ کے ہم خیال اور ہم نظر ہیں۔ یہ تنظیم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ممالک اور حکومتوں کے سربراہان کی باتیں عملی صورت اختیار کرتی ہیں۔

انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم میں اپنے سابقہ عہدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں دو سال تک نائب سیکرٹری جنرل رہا ہوں اور تقریباً دو سال سے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہوں۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ اب تک ہم نے ٹھوس اور مؤثر نتائج حاصل کیے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی 25 سالہ سرگرمیوں کے دوران ہم نے رکن ممالک کے صدور کے ان احکامات اور معاہدوں پر عمل درآمد کیا ہے جن کے لیے انہوں نے عہد کیا تھا اور جو کاغذوں تک محدود تھے۔ البتہ بعض بیانات اور تجاویز، جن کی کوئی ٹھوس شکل اور حقیقی لائحۂ عمل موجود نہیں ہوتا، فطری طور پر قابلِ عمل نہیں ہوتیں۔

انہوں نے مزید کہا ان تجاویز کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ملک کے خصوصی رابطہ کار متعلقہ امور اور مجوزہ حکمتِ عملیوں پر عمل درآمد کی پیروی کریں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں ایک ایسا طریقۂ کار موجود ہے جس کے تحت اگر اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو تو ان تجاویز پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ کسی ملک کے صدر کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو عملی شکل دی جائے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے یک طرفہ طرزِ عمل کی مخالفت کے حوالے سے ڈاکٹر پزشکیان کی باتوں کی تائید کی اور افسوس کا اظہار کیا کہ بعض ممالک مشترکہ عملی تعلقات کے بجائے یک طرفہ طرزِ عمل کو ترجیح دیتے ہیں۔
 انہوں نے یاد دلایا کہ بدقسمتی سے شنگھائی تعاون تنظیم کے بعض رکن ممالک تمام ممالک کے ساتھ عملی تعلقات کے مقابلے میں اپنے دوطرفہ تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی نسبت ان دوطرفہ روابط کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض فیصلے تنظیم کی مجموعی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے آخر میں کہا کہ ایران کے ساتھ کیے گئے ان معاہدوں کی فہرست تیار کی جانی چاہیے جن پر عمل نہیں کیا گیا، تاکہ سفیروں اور نمائندوں کے ذریعے ان معاملات کی تحقیقات کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب امن و سکون کے حصول کے لیے کوشش کر رہے ہیں اور شنگھائی تعاون تنظیم کا وجود اسی اصول پر قائم ہے۔ طاقت کے استعمال سے گریز اور ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام اہم ہے اور ان اصولوں کی عملی طور پر پابندی کرنا ضروری ہے۔ تمام ممالک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی سے استفادہ کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ انہیں جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور پھیلاؤ نہ کرنے کے اصول کی پابندی بھی کرنی چاہیے۔

News ID 1941995

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha